5 اشعار

اس کو کھو دینے کا احساس تو کم باقی ہے

Us ko kho dene ka ehsaas to kam baaqi hai

اس کو کھو دینے کا احساس تو کم باقی ہے

«اس کو کھو دینے کا احساس تو کم باقی ہے» ندا فاضلی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 40 سیکنڈ ہے۔

اس کو کھو دینے کا احساس تو کم باقی ہےجو ہوا وہ نہ ہوا ہوتا یہ غم باقی ہے

اب نہ وہ چھت ہے نہ وہ زینہ نہ انگور کی بیلصرف اک اس کو بھلانے کی قسم باقی ہے

میں نے پوچھا تھا سبب پیڑ کے گر جانے کااٹھ کے مالی نے کہا اس کی قلم باقی ہے

جنگ کے فیصلے میداں میں کہاں ہوتے ہیںجب تلک حافظے باقی ہیں علم باقی ہے

تھک کے گرتا ہے ہرن صرف شکاری کے لیےجسم گھائل ہے مگر آنکھوں میں رم باقی ہے

— ندا فاضلی