5 اشعار

یقین چاند پہ سورج میں اعتبار بھی رکھ

Yaqeen chand pe sooraj mein aitbaar bhi rakh

یقین چاند پہ سورج میں اعتبار بھی رکھ

«یقین چاند پہ سورج میں اعتبار بھی رکھ» ندا فاضلی کا کلام ہے، جسے گلشن شیرازی نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس « ہوش والوں کو خبر کیا بےخودی کیا چیز ہے ندا فاضلی» میں 2 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 41 سیکنڈ ہے۔

یقین چاند پہ سورج میں اعتبار بھی رکھمگر نگاہ میں تھوڑا سا انتظار بھی رکھ

خدا کے ہاتھ میں مت سونپ سارے کاموں کوبدلتے وقت پہ کچھ اپنا اختیار بھی رکھ

یہ ہی لہو ہے شہادت یہ ہی لہو پانیخزاں نصیب سہی ذہن میں بہار بھی رکھ

گھروں کے طاقوں میں گلدستے یوں نہیں سجتےجہاں ہیں پھول وہیں آس پاس خار بھی رکھ

پہاڑ گونجیں ندی گائے یہ ضروری ہےسفر کہیں کا ہو دل میں کسی کا پیار بھی رکھ

— ندا فاضلی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں