18 اشعار

پھر یوں ہوا کے ساتھ تیرا چھوڑنا پڑا

Phir yun hua ke saath tera chhodna pada

پھر یوں ہوا کے ساتھ تیرا چھوڑنا پڑا

«پھر یوں ہوا کے ساتھ تیرا چھوڑنا پڑا» پروین شاکر کا کلام ہے، جسے نایاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «بچھڑنے والوں میں ہم جس سے آشنا کم تھے محسن زیدی» میں 18 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 47 سیکنڈ ہے۔

پھر یوں ہوا کے ساتھ تیرا چھوڑنا پڑاثابت ہوا کے لازم و ملزوم کچھ نہیں

پھر یوں ہوا کہ راستے یکجا نہیں رہےوہ بھی انا پرست تھا میں بھی انا پرست

پھر یوں ہوا کہ ہاتھ سے، کشکول گر گیاخیرات لے کے مجھ سے چلا تک نہیں گیا.

پھر یوں ہوا کہ درد کی لذت بھی چھن گئیاک شخص موم سے مجھے پتھر بنا گیا

پھر یوں ہوا کہ زخم نے جاگیر بنا لیپھر یوں ہوا کہ درد مجھے راس آ گیا

پھر یوں ہوا کہ وقت کر تیور بدل گئےپھر یوں ہوا کہ راستے یکسر بدل گئے

پھر یوں ہوا کہ حشر کے سامان ہوگئےپھر یوں ہوا کہ شہر بیاباں ہوگئے

پھر یوں ہوا کہ راحتیں کافور ہوگئیںپھر یوں ہوا کہ بستیاں بے نور ہوگئیں

پھر یوں ہوا کہ کوئی شناسا نہیں رہاپھر یوں ہوا کہ درد میں شدت نہیں رہی

پھر یوں ہوا کہ ہو گیا مصروف وہ بہتاور ہمیں یاد کرنے کی فرصت نہیں رہی

اب کیا کسی کو چاہیں کہ ہم کو تو ان دنوںخود اپنے آپ سے بھی محبت نہیں رہی

پھر یوں ہوا کہ دل میں کسی کو بسا لیاپھر یوں ہوا کہ، خواب سجائے تمام عُمر

پھر یوں ہوا کہ نِکلے کسی کی تلاش میںپھر یوں ہوا کہ خود کو نہ پائے تمام عُمر

پھر یوں ہوا کہ باتوں میں، ہم اُس کی آگئےپھر یوں ہوا کہ دھوکے ہی کھائے تمام عُمر

پھر یوں ہوا کہ دکھ ہمیں محبوب ہو گئےپھر یوں ہوا کہ، دل سے لگائے تمام عُمر

پھر یوں ہوا کہ اور کسی کے نہ ہو سکےپھر یوں ہوا کہ وعدے نبھائے تمام عُمر

پھر یوں ہوا کہ بیٹھ گئے، راہ میں غیاثپھر یوں ہوا کہ وہ بھی نہ آئے تمام عُمر

پھر یوں ہوا کہ گناہ کی طاقت نہیں رہیہم جیسے کتنے لوگ بھی درویش ہوگئے...

— پروین شاکر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں