ویسے تو ہم سفر ہیں سبھی راستوں میں لوگ
کلام: محسن زیدی
ویسے تو ہم سفر ہیں سبھی راستوں میں لوگلیکن بنٹے ہوئے ہیں کئی قافلوں میں لوگ
چہرہ اگرچہ اپنا نہیں دوسرے کا ہےخوش پھر بھی عکس دیکھ کے ہیں آئنوں میں لوگ
بچھڑنے والوں میں ہم جس سے آشنا کم تھے محسن زیدی
مہمان شاعر: محسن زیدی
ویسے تو ہم سفر ہیں سبھی راستوں میں لوگلیکن بنٹے ہوئے ہیں کئی قافلوں میں لوگ
چہرہ اگرچہ اپنا نہیں دوسرے کا ہےخوش پھر بھی عکس دیکھ کے ہیں آئنوں میں لوگ
پھر یوں ہوا کے ساتھ تیرا چھوڑنا پڑاثابت ہوا کے لازم و ملزوم کچھ نہیں
پھر یوں ہوا کہ راستے یکجا نہیں رہےوہ بھی انا پرست تھا میں بھی انا پرست