8 اشعار

اسے اپنے فردا کی فکر تھی، جو میرا واقفِ حال تھا

Usay apne farda ki fikr thi, jo mera waqif-e-haal tha

اسے اپنے فردا کی فکر تھی، جو میرا واقفِ حال تھا

«اسے اپنے فردا کی فکر تھی، جو میرا واقفِ حال تھا» پروین شاکر کا کلام ہے، جسے امل خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جب رو بہ رو ہو تیرے گفتار بھول جاوئے آبرو شاہ مبارک» میں 17 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 19 سیکنڈ ہے۔

اسے اپنے فردا کی فکر تھی، جو میرا واقفِ حال تھاوہ جو اس کی صبحِ عروج تھی، وہی میرا وقتِ زوال تھا

میرا درد کیسے وہ جانتا، میری بات کیسے وہ مانتاوہ تو خود فنا کے سفر میں تھا، اُسے روکنا بھی محال تھا

کہاں جاؤ گے مجھے چھوڑ کر، میں یہ پوچھ پوچھ کے تھک گیاوہ جواب مجھ کو نہ دے سکا، وہ خود سراپا سوال تھا

وہ جو اس کے سامنے آگیا، وہی روشنی میں نہا گیاعجب اس کی ہیبتِ حسن تھی، عجب اس کا رنگِ جمال تھا

دمِ واپسی اسے کیا ہوا، نہ وہ روشنی نہ وہ تازگیوہ ستارہ کیسے بکھر گیا، وہ تو آپ اپنی مثال تھا

وہ ملا تو صدیوں کے بعد بھی، میرے لب پہ کوئی گلہ نہ تھااُسے میری چپ نے رلا دیا، جسے گفتگو میں کمال تھا

میرے ساتھ لگ کے وہ رو دیا، اور مجھے فقط اتنا وہ کہہ سکاجسے جانتا تھا میں زندگی، وہ تو صرف وہم و خیال تھا

کیا یہ غزل احمد ندیم ٖقاسمی کی ہے اور غزل کا متن مکمل اور صحیح ہے؟

— پروین شاکر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں