ہم نیں سجن سنا ہے اس شوخ کے دہاں ہے
کلام: آبرو شاہ مبارک
ہم نیں سجن سنا ہے اس شوخ کے دہاں ہےلیکن کبھو نہ دیکھا کیتا ہے اور کہاں ہے
ڈھونڈا ہزار تو بھی تیرا نشاں نہ پایالشکر میں گل رخاں کے تیری مثل کہاں ہے
جب رو بہ رو ہو تیرے گفتار بھول جاوئے آبرو شاہ مبارک
مہمان شاعر: آبرو شاہ مبارک
ہم نیں سجن سنا ہے اس شوخ کے دہاں ہےلیکن کبھو نہ دیکھا کیتا ہے اور کہاں ہے
ڈھونڈا ہزار تو بھی تیرا نشاں نہ پایالشکر میں گل رخاں کے تیری مثل کہاں ہے
کیوں ملامت اس قدر کرتے ہو بے حاصل ہے یہلگ چکا اب چھوٹنا مشکل ہے اس کا دل ہے یہ
بے قراری سیں نہ کر ظالم ہمارے دل کوں منعکیوں نہ تڑپے خاک و خوں میں اس قدر بسمل ہے یہ
اسے اپنے فردا کی فکر تھی، جو میرا واقفِ حال تھاوہ جو اس کی صبحِ عروج تھی، وہی میرا وقتِ زوال تھا
میرا درد کیسے وہ جانتا، میری بات کیسے وہ مانتاوہ تو خود فنا کے سفر میں تھا، اُسے روکنا بھی محال تھا