20 اشعار

کسی کی کسی کو محبت نہیں ہے

Kisi ki kisi ko mohabbat nahin hai

کسی کی کسی کو محبت نہیں ہے

«کسی کی کسی کو محبت نہیں ہے» پروین ام مشتاق کا کلام ہے، جسے آزاد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «واعظ شراب و حور کی الفت میں غرق ہے پروین ام مشتاق» میں 20 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 5 سیکنڈ ہے۔

کسی کی کسی کو محبت نہیں ہےابھی اس کی دنیا کو لذت نہیں ہے

اگر تم کو ملنے کی فرصت نہیں ہےمجھے بھی زیادہ ضرورت نہیں ہے

بہت خوش نما ہے گلستان عالممگر سیر کرنے کی فرصت نہیں ہے

بہت سے گھروں میں خزانے ہیں مدفوںنہیں ہے تو گنج قناعت نہیں ہے

کہاں تک نہ بے ہوش و بے خود کرے گیمئے وصل ہے کوئی شربت نہیں ہے

خیالات میں اپنے ہوں غرق واعظمجھے کہنے سننے کی فرصت نہیں ہے

دکھاتے نہیں شرم سے روئے روشنکوئی کامیابی کی صورت نہیں ہے

تزلزل میں کس واسطے ہے زمانہشب ہجر ہے یہ قیامت نہیں ہے

کہاں اے پری تو کہاں حور جنتتری اس کی آپس میں نسبت نہیں ہے

مری قمریوں کے سوا کون انساںیہ شمشاد ہے اس کی قامت نہیں ہے

وہ اٹھے تو لاکھوں ہی فتنے اٹھیں گےوہ قامت بھی کم از قیامت نہیں ہے

نہ کیوں دل لگے یاں وہ ہے اور خلوتیہ حورا نہیں ہے یہ جنت نہیں ہے

جفائیں نہ کیجے نہ کیجے نہ کیجےتحمل کی اب مجھ کو طاقت نہیں ہے

تلاطم میں مصروف ہے قطرہ قطرہکوئی شے یہاں بے حقیقت نہیں ہے

جہاں تک بنے تم سے بیداد کر لواگر آنے والی قیامت نہیں ہے

لرزتا ہے کیوں ڈر سے اے جسم لاغریہ دھڑکا ہے دل کا قیامت نہیں ہے

حسینوں کی چاہت حسینوں کی الفتمصیبت بھی ہے اور مصیبت نہیں ہے

تمہیں عاشق اور مجھ کو معشوق لاکھوںیہاں آدمیوں کی قلت نہیں ہے

سنبھل کر ذرا ناز و اغماض کیجےحسینوں کی دنیا میں قلت نہیں ہے

زمانہ میں ہونے کو سب کچھ ہے پرویںؔہمیں کیا امید شفاعت نہیں ہے

— پروین ام مشتاق

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں