23 اشعار

کچھ طبیعت آج کل پاتا ہوں گھبرائی ہوئی

Kuch tabiyat aaj kal paata hoon ghabraai hui

کچھ طبیعت آج کل پاتا ہوں گھبرائی ہوئی

«کچھ طبیعت آج کل پاتا ہوں گھبرائی ہوئی» پروین ام مشتاق کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 3 منٹ 1 سیکنڈ ہے۔

کچھ طبیعت آج کل پاتا ہوں گھبرائی ہوئیشہر بھر میں ہے اداسی ہر طرف چھائی ہوئی

ہائے رے غارت گر صبر و شکیبائی ہوئیوہ تری ترچھی نظر وہ آنکھ شرمائی ہوئی

اے صبا چلتی ہے کیوں اس درجہ اترائی ہوئیکیا نہیں ہے تو وہی اس گل کی ٹھکرائی ہوئی

وصل میں اچھی طرح جب بادہ پیمائی ہوئیاڑ گئی کافور بن بن کر حیا آئی ہوئی

شب کو جب ابرو و مژگاں کی صف آرائی ہوئیشوخیوں میں دب گئی شرم و حیا آئی ہوئی

ہائے میری بے قراری اور ان کا اضطراباور چلتے وقت کی باتیں وہ گھبرائی ہوئی

قبر تک پہونچا گئے سارے عزیز و اقرباآگے آگے پھر رفیق راہ تنہائی ہوئی

ہاں تمہیں پر جان دیتا ہوں تمہیں پر ہوں نثارہاں تمہیں پر ہے طبیعت ٹوٹ کر آئی ہوئی

ٹکڑے ٹکڑے ہیں جگر کے شیشۂ دل چور چوریہ قیامت ہے تمہاری چال کی ڈھائی ہوئی

جس میں طاقت ہے نہ حرکت ہے نہ خواہش ہے نہ جاںدل نہیں اک لاش ہے سینہ میں دفنائی ہوئی

بیٹھتے ہی بیٹھتے محفل میں بے خود ہو گیادیکھتے ہی دیکھتے رخصت توانائی ہوئی

خوب رونے دو کہ یہ روکے سے رک سکتا نہیںمیرے دل پر ہے ابھی غم کی گھٹا چھائی ہوئی

آب دیدہ ہو کے وہ آپس میں کہنا الوداعاس کی کم میری سوا آواز بھرائی ہوئی

منتیں کرتا ہوں درگزرو خدارا بخش دواب تو نادانی ہوئی یا مجھ سے دانائی ہوئی

شکوۂ وعدہ خلافی کا ملا اچھا جوابپیشگی رکھی تھی اک امید بر آئی ہوئی

حور پر میری طبیعت آئے کیا مقدور ہےتوبہ توبہ یہ بھی تیری طرح ہرجائی ہوئی

خود ہی سوچو دیکھنے والوں کا اس میں کیا قصورجب تماشا تم ہوئے خلقت تماشائی ہوئی

روتے روتے ٹھہر جاتا ہوں تری سر کی قسمیاد آ جاتی ہے جب وہ بات سمجھائی ہوئی

دے کے دل غصہ میں واپس ان کو پچھتانا پڑاکیا رقم جاتی رہی ہے ہاتھ سے آئی ہوئی

خوش نصیبی اس جگہ کی تو جہاں رکھے قدمریل بھی پھرتی ہے اسٹیشن پر اترائی ہوئی

جب کہا اس نے کہ مرتا ہوں تو کوسا اس طرحتجھ کو آئے یا الٰہی غیر کی آئی ہوئی

ربط بڑھنے پر کھلا کرتا ہے کچھ اچھا برااس سے کیا ہوتا ہے گر رسمی شناسائی ہوئی

عشق بازی اور شے ہے فسق ہے کچھ اور چیزنیک نامی کو نہ کہہ پرویںؔ کہ رسوائی ہوئی

— پروین ام مشتاق