9 اشعار

آج اک اک بادہ کش مسرور مے خانے میں ہے

Aaj ik ik baada-kash masroor mai-khane mein hai

آج اک اک بادہ کش مسرور مے خانے میں ہے

«آج اک اک بادہ کش مسرور مے خانے میں ہے» پیر نصیرالدین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 28 سیکنڈ ہے۔

آج اک اک بادہ کش مسرور مے خانے میں ہےتازہ تازہ اس کے اس کے سب کے پیمانے میں ہے

شیخ جل اٹھے گا تو وہ شعلہ مے خانے میں ہےمے نہیں یہ اک دہکتی آگ پیمانے میں ہے

اپنا دیوانہ بنا لیتا ہے ساری خلق کواک ادائے خاص ایسی اس کے دیوانے میں ہے

دیر بوتل کے اٹھانے میں لگے گی کچھ نہ کچھمجھ کو اتنی ہی بہت ہے جتنی پیمانے میں ہے

میکدے میں آنے والو مے کدہ مت چھوڑنامرنے جینے کا مزا کچھ ہے تو مے خانے میں ہے

پی رہا ہوں جی رہا ہوں شاد ہوں مسرور ہوںزندگی ہی زندگی لبریز پیمانے میں ہے

دل کی بے کیفی کا یہ عالم ہوا بعد جنوںلطف جینے کا نہ گلشن میں نہ ویرانے میں ہے

دھیان ہے آہٹ پہ حسرت دل میں ہے آنکھوں میں دمہم چلے دنیا سے ان کو دیر اگر آنے میں ہے

جاگ اٹھی قسمت مقدر جگمگا اٹھا نصیرؔجلوہ فرما آج کوئی میرے کاشانے میں ہے

— پیر نصیرالدین