8 اشعار

ان سے ہر وقت مری آنکھ لڑی رہتی ہے

Un se har waqt meri aankh ladi rehti hai

ان سے ہر وقت مری آنکھ لڑی رہتی ہے

«ان سے ہر وقت مری آنکھ لڑی رہتی ہے» پیر نصیرالدین کا کلام ہے، جسے رابعہ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «آج مے خانے میں نیت میری بھر جانے دے پیر نصیر الدین نصیر» میں 8 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 6 سیکنڈ ہے۔

ان سے ہر وقت مری آنکھ لڑی رہتی ہےکیا لڑاکا ہے کہ لڑنے پہ اڑی رہتی ہے

دیکھ کر وقت کے مقتل میں مری شان ورودڈر میں قاتل ہی نہیں موت کھڑی رہتی ہے

تیری تصویر مرے دل میں نگینے کی طرحجگمگاتی ہے چمکتی ہے جڑی رہتی ہے

لوگ سچ کہتے ہیں پامال محبت مجھ کومیری چاہت ترے قدموں میں پڑی رہتی ہے

آفتیں لاکھ ہوں دیکھا نہ کبھی چہرۂ یاسمجھ کو اللہ سے امید بڑی رہتی ہے

جو کبھی خون شہیداں سے حنا بند رہےاب انہیں پھول سے ہاتھوں میں چھڑی رہتی ہے

یوں نہ اترا کہ جوانی بھی ہے آنی جانیچاندنی چاند کی دو چار گھڑی رہتی ہے

گریۂ چشم کا الفت میں یہ عالم ہے نصیرؔکوئی موسم بھی ہو ساون کی جھڑی رہتی ہے

— پیر نصیرالدین

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں