8 اشعار

محفل کا یہ انداز کہاں وہ ہیں کہاں میں

Mahfil ka ye andaaz kahan wo hain kahan main

محفل کا یہ انداز کہاں وہ ہیں کہاں میں

«محفل کا یہ انداز کہاں وہ ہیں کہاں میں» پیر نصیرالدین کا کلام ہے، جسے شہزاد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «آج مے خانے میں نیت میری بھر جانے دے پیر نصیر الدین نصیر» میں 8 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 56 سیکنڈ ہے۔

محفل کا یہ انداز کہاں وہ ہیں کہاں میںدنیا کو خبر ہوگی جو کھولوں گا زباں میں

چاہو تو ہم آہنگ کروں دل سے زباں میںکچھ عرض کروں جان کی پااؤں جو اماں میں

حالات غم عشق نہیں ذکر کے قابلسنتے ہیں اگر آپ تو کرتا ہوں بیاں میں

ذرے کو بھی خورشید سے نسبت سہی پھر بھیسچ بات مگر یہ ہے کہاں آپ کہاں میں

بھولے سے بھی انگڑائی اب آتی نہیں مجھ کواے چشم زمانہ کبھی ہوتا تھا جواں میں

سنتا ہوں بڑی دیر سے ساقی کی برائیاب کھینچوں گا واعظ تری گدی سے زباں میں

سائے کی طرح ساتھ نظر آؤں گا سرکارجانا ہے کہاں مجھ کو جہاں آپ وہاں میں

اب خود ہی نصیرؔ اٹھ کے چلا جاؤں تو اچھااس انجمن ناز میں ہوں بار گراں میں

— پیر نصیرالدین

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں