17 اشعار

بن کے تصویر غم رہ گئے ہیں

Ban ke tasveer-e-gham rah gaye hain

بن کے تصویر غم رہ گئے ہیں

«بن کے تصویر غم رہ گئے ہیں» پیر نصیرالدین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 45 سیکنڈ ہے۔

بن کے تصویر غم رہ گئے ہیںکھوئے کھوئے سے ہم رہ گئے ہیں

کیجیے جو ستم رہ گئے ہیںجان دینے کو ہم رہ گئے ہیں

بانٹ لیں سب نے آپس میں خوشیاںمیرے حصے میں غم رہ گئے ہیں

قافلے والے منزل پہ پہنچےیہ نہ دیکھا کہ ہم رہ گئے ہیں

اب نہ اٹھنا سرہانے سے میرےاب تو گنتی کے دم رہ گئے ہیں

اللہ اللہ یہ کس کی گلی ہےاٹھتے اٹھتے قدم رہ گئے ہیں

کائنات جفا و وفا میںایک تم ایک ہم رہ گئے ہیں

دیکھ کر ان کے منگتوں کی غیرتدنگ اہل کرم رہ گئے ہیں

ہم سے اللہ والے کہاں ابآپ جیسے صنم رہ گئے ہیں

دو قدم چل کے راہ وفا میںتھک گئے تم کہ ہم رہ گئے ہیں

وہ تو آ کر گئے بھی کبھی کےدل پہ نقش قدم رہ گئے ہیں

آج ساقی پلا شیخ کو بھیاک یہی محترم رہ گئے ہیں

وہ گئے جن کے دم سے تھی رونقاور رہنے کو ہم رہ گئے ہیں

ان کی ستاریاں کچھ نہ پوچھوعاصیوں کے بھرم رہ گئے ہیں

اے صبا ایک زحمت ذرا پھران کی زلفوں کے خم رہ گئے ہیں

دور ماضی کی تصویر آخراب نصیرؔ ایک ہم رہ گئے ہیں

دل نصیرؔ ان کا تھا لے گئے وہہم خدا کی قسم رہ گئے ہیں

— پیر نصیرالدین