7 اشعار

دین سے دور، نہ مذہب سے الگ بیٹھا ہوں

Deen se door, na mazhab se alag baitha hoon

دین سے دور، نہ مذہب سے الگ بیٹھا ہوں

«دین سے دور، نہ مذہب سے الگ بیٹھا ہوں» پیر نصیرالدین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 6 سیکنڈ ہے۔

دین سے دور، نہ مذہب سے الگ بیٹھا ہوںتیری دہلیز پہ ہوں، سب سے الگ بیٹھا ہوں

ڈھنگ کی بات کہے کوئی، تو بولوں میں بھیمطلبی ہوں، کسی مطلب سے الگ بیٹھا ہوں

بزم احباب میں حاصل نہ ہوا چین مجھےمطمئن دل ہے بہت، جب سے الگ بیٹھا ہوں

غیر سے دور، مگر اس کی نگاہوں کے قریںمحفل یار میں اس ڈھب سے الگ بیٹھا ہوں

یہی مسلک ہے مرا، اور یہی میرا مقامآج تک خواہش منصب سے الگ بیٹھا ہوں

عمر کرتا ہوں بسر گوشۂ تنہائی میںجب سے وہ روٹھ گئے، تب سے الگ بیٹھا ہوں

میرا انداز نصیرؔ اہل جہاں سے ہے جداسب میں شامل ہوں، مگر سب سے الگ بیٹھا ہوں

— پیر نصیرالدین