10 اشعار

بے رخی ان کی ہر ادا میں ہے

Be-rukhi un ki har ada mein hai

بے رخی ان کی ہر ادا میں ہے

«بے رخی ان کی ہر ادا میں ہے» پیر نصیرالدین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 15 سیکنڈ ہے۔

بے رخی ان کی ہر ادا میں ہےدل خدا جانے کس ہوا میں ہے

اک جھلک اس کی ابتدا میں ہےآزمائش جو انتہا میں ہے

زہد میں ہے نہ اتقا میں ہےزندگی معتبر وفا میں ہے

قصے اوروں کے سن رہا ہے کوئیداستاں میری التوا میں ہے

خیر یا رب مرے نشیمن کیبرق بے تاب پھر گھٹا میں ہے

زلف کی چیرہ دستیا توآدمی پنجۂ بلا میں ہے

جس طرف چاہے اس کا رخ پھیرےناؤ اب دست ناخدا میں ہے

وہ غرور جمال میں گم ہیںمدعی عرض مدعا میں ہے

راس آیا نہ جامہ ہستیآدمی تنگ سی قبا میں ہے

اور کچھ ہو نصیرؔ میں کہ نہ ہوسیر چشمی ترے گدا میں ہے

— پیر نصیرالدین