10 اشعار

کس تصور میں وہ کھو جاتے ہیں اٹھتے بیٹھتے

Kis tasawwur mein wo kho jaate hain uthte baithte

کس تصور میں وہ کھو جاتے ہیں اٹھتے بیٹھتے

«کس تصور میں وہ کھو جاتے ہیں اٹھتے بیٹھتے» پیر نصیرالدین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 26 سیکنڈ ہے۔

کس تصور میں وہ کھو جاتے ہیں اٹھتے بیٹھتےاپنے جی میں آپ شرماتے ہیں اٹھتے بیٹھتے

پاس رہ کر جو ستم ڈھاتے ہیں اٹھتے بیٹھتےجب چلے جائیں تو یاد آتے ہیں اٹھتے بیٹھتے

یوں ہم اپنے دل کو بہلاتے ہیں اٹھتے بیٹھتےکوئے جاناں تک پہنچ جاتے ہیں اٹھتے بیٹھتے

اب تو وہ رہنے لگے ہر وقت مجھ سے بد گماںکا برا ان کا جو بھڑکاتے ہیں اٹھتے بیٹھتے

فصل گل کیا آئی ہے دیوار زنداں سے اسیررات دن سر اپنا ٹکراتے ہیں اٹھتے بیٹھتے

ہے غنیمت چند لمحوں کے لئے مل بیٹھنادوست دنیا میں بچھڑ جاتے ہیں اٹھتے بیٹھتے

کس کو یارائے سخن کس کو مجال گفتگوآپ جب خنجر ہی لہراتے ہیں اٹھتے بیٹھتے

میرے دل کی الجھنوں کا بھی کبھی کوئی خیالزلف تو وہ اپنی سلجھاتے ہیں اٹھتے بیٹھتے

چشم حق آگاہ میں کیا قدر و قیمت ان کی ہوچند سکوں پر جو اتراتے ہیں اٹھتے بیٹھتے

آئینہ ہے اور وہ ہیں اور میرا دل نصیرؔان کی بن آئی ہے تڑپاتے ہیں اٹھتے بیٹھتے

— پیر نصیرالدین