13 اشعار

ٹکرا گئی تھی ان کی نظر سے نظر کہیں

Takra gayi thi un ki nazar se nazar kahin

ٹکرا گئی تھی ان کی نظر سے نظر کہیں

«ٹکرا گئی تھی ان کی نظر سے نظر کہیں» پیر نصیرالدین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 25 سیکنڈ ہے۔

ٹکرا گئی تھی ان کی نظر سے نظر کہیںدل کو مرے نہ چین ملا عمر بھر کہیں

ہو جائیے کبھی نہ کبھی جلوہ گر کہیںسر پھوڑ لے نہ آپ کا آشفتہ سر کہیں

قلب و نظر میں حشر بپا جان مضطرباس راہ سے ہوا نہ ہو ان کا گزر کہیں

اے چارہ ساز سر نہ کھپا اپنی راہ لےاچھا ہوا ہے عشق میں زخم جگر کہیں

للہ آپ حسن کے تیور سنبھالئےبرباد ہو نہ جائے متاع نظر کہیں

کہنا پڑے گی کھل کے مجھے داستان دلجب چھڑ گئی تو بات ہوئی مختصر کہیں

مجروح نیش وقت کا اللہ رے علاجمرہم کہیں ہے زخم کہیں چارہ گر کہیں

دل چاہتا ہے شام تمنا شب وصاللیکن ڈھلے تو غم کی کڑی دوپہر کہیں

مجھ سے کھیچے ہوئے ہیں تو خوش ہیں وہ غیر سےاس نے لگائی ہو نہ ادھر کی ادھر کہیں

ملتا ہے آج کل ہمیں اک شخص اس طرحبیگانہ وار وہ بھی سر رہ گزر کہیں

سنتا ہوں لوٹ لیتے ہیں وہ اک نگاہ میںخود بھی نہ لٹ گیا ہو مرا نامہ بر کہیں

آئے ہیں آپ اور مرے گھر زہے نصیبدھوکا نہ کھا رہی ہو یہ میری نظر کہیں

سوچیں تو کہہ رہے ہیں کسے بے وفا نصیرؔالزام آ نہ جائے یہ اپنے ہی سر کہیں

— پیر نصیرالدین