7 اشعار

بساط بزم الٹ کر کہاں گیا ساقی

Bisat-e-bazm ulat kar kahan gaya saqi

بساط بزم الٹ کر کہاں گیا ساقی

«بساط بزم الٹ کر کہاں گیا ساقی» پیر نصیرالدین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 52 سیکنڈ ہے۔

بساط بزم الٹ کر کہاں گیا ساقیفضا خموش، سبو چپ، اداس پیمانے

نہ اب وہ جلوۂ یوسف نہ مصر کا بازارنہ اب وہ حسن کے تیور، نہ اب وہ دیوانے

نہ حرف حق، نہ وہ منصور کی زباں، نہ وہ دارنہ کربلا، نہ وہ کٹتے سروں کے نذرانے

نہ بایزید، نہ شبلی، نہ اب جنید کوئینہ اب و سوز، نہ آہیں، نہ ہاؤ ہو خانے

خیال و خواب کی صورت بکھر گیا ماضینہ سلسلے نہ وہ قصے نہ اب وہ افسانے

نہ قدر داں، نہ کوئی ہم زباں، نہ انساں دوستفضائے شہر سے بہتر ہیں اب تو ویرانے

بدل گئے ہیں تقاضے مزاج وقت کے ساتھنہ وہ شراب، نہ ساقی، نہ اب وہ مے خانے

— پیر نصیرالدین