8 اشعار

عجیب منظر بالائے بام ہوتا ہے

Ajeeb manzar bala-e-baam hota hai

عجیب منظر بالائے بام ہوتا ہے

«عجیب منظر بالائے بام ہوتا ہے» پیر نصیرالدین کا کلام ہے، جسے راجا اکرام قمر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «آج مے خانے میں نیت میری بھر جانے دے پیر نصیر الدین نصیر» میں 8 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 2 سیکنڈ ہے۔

عجیب منظر بالائے بام ہوتا ہےجب آشکار وہ ماہ تمام ہوتا ہے

ہراس شب، اثر ضعف، خوف راہزناںمسافروں پہ گراں وقت شام ہوتا ہے

بس اک نگاہ پہ ہے دل کا فیصلہ موقوفبس اک نگاہ میں قصہ تمام ہوتا ہے

جب اپنے گھر پہ بلاتا ہوں میں کبھی ان کوانہیں ضرور کوئی خاص کام ہوتا ہے

جواب دے نہیں سکتی زبان شوق مریکچھ اس ادا سے کوئی ہم کلام ہوتا ہے

رہ جنوں میں لپٹتے ہیں پاؤں سے کانٹےبہ ہر قدم یہ مرا احترام ہوتا ہے

نظر نظر پہ سر بزم ہے نظر ان کینظر نظر میں سلام و پیام ہوتا ہے

نصیرؔ اہل وفا کے بڑے مراتب ہیںبہت بلند وفا کا مقام ہوتا ہے

— پیر نصیرالدین

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں