10 اشعار

مری زندگی تو فراق ہے وہ ازل سے دل میں مکیں سہی

Meri zindagi to firaaq hai wo azal se dil mein makeen sahi

مری زندگی تو فراق ہے وہ ازل سے دل میں مکیں سہی

«مری زندگی تو فراق ہے وہ ازل سے دل میں مکیں سہی» پیر نصیرالدین کا کلام ہے، جسے سید جینٹلمین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «آج مے خانے میں نیت میری بھر جانے دے پیر نصیر الدین نصیر» میں 8 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 42 سیکنڈ ہے۔ یہ کلام سحرِ بیاں کی محفلوں میں 2 مرتبہ پیش کیا جا چکا ہے۔

مری زندگی تو فراق ہے وہ ازل سے دل میں مکیں سہیوہ نگاہ شوق سے دور ہیں رگ جاں سے لاکھ قریں سہی

ہمیں جان دینی ہے ایک دن وہ کسی طرح وہ کہیں سہیہمیں آپ کھینچے دار پر جو نہیں کوئی تو ہمیں سہی

غم زندگی سے فرار کیا یہ سکون کیوں یہ قرار کیاغم زندگی بھی ہے زندگی جو نہیں خوشی تو نہیں سہی

سر طور ہو سر حشر ہو ہمیں انتظار قبول ہےوہ کبھی ملیں وہ کہیں ملیں وہ کبھی سہی وہ کہیں سہی

نہ ہو ان پہ جو مرا بس نہیں کہ یہ عاشقی ہے ہوس نہیںمیں انہیں کا تھا میں انہیں کا ہوں وہ مرے نہیں تو نہیں سہی

مجھے بیٹھنے کی جگہ ملے مری آرزو کا بھرم رہےتری انجمن میں اگر نہیں تری انجمن کے قریں سہی

ترے واسطے ہے یہ وقف سر رہے تا ابد ترا سنگ درکوئی سجدہ ریز نہ ہو سکے تو نہ ہو مری ہی جبیں سہی

مری زندگی کا نقیب ہے نہیں دور مجھ سے قریب ہےمجھے اس کا غم تو نصیب ہے وہ اگر نہیں تو نہیں سہی

جو ہو فیصلہ وہ سنائیے اسے حشر پر نہ اٹھائیےجو کریں گے آپ ستم وہاں وہ ابھی سہی وہ یہیں سہی

اسے دیکھنے کی جو لو لگی تو نصیرؔ دیکھ ہی لیں گے ہموہ ہزار آنکھ سے دور ہو وہ ہزار پردہ نشیں سہی

— پیر نصیرالدین

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں