11 اشعار

چھوڑ دو گے تم ہمیں دشمن کے بہکانے سے کیا

Chhod doge tum humein dushman ke behkane se kya

چھوڑ دو گے تم ہمیں دشمن کے بہکانے سے کیا

«چھوڑ دو گے تم ہمیں دشمن کے بہکانے سے کیا» پیر نصیرالدین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 33 سیکنڈ ہے۔

چھوڑ دو گے تم ہمیں دشمن کے بہکانے سے کیایوں تمہیں مل جائے گا، اپنوں کو تڑپانے سے کیا

لاکھ سمجھاؤ مگر ہوتا ہے سمجھانے سے کیاہوش کی باتیں کرو ،الجھو گے دیوانے سے کیا

آپ کی باتیں سنیں واعظ !مگر مانیں نہیںچوٹ کھاتا، آپ جیسے جانے پہچانے سے کیا

رقص کے عالم میں ہو جیسے سارا میکدہآنکھ ساقی نے ملا رکھی ہے پیمانے سے کیا

خیر! ہم نے مان لی جو بات بھی تم نے کہیتم کہو، تم کو ملا جھوٹی قسم کھانے سے کیا

سامنے جب آ گیے کیسی حیا، کیسا حجابفائدہ اب منہ چھپانے اور شرمانے سے کیا

دیکھ زاہد !بادۂ سر جوش کے چھینٹے نہ ہوںتیرے دامن پر ہیں یہ تسبیح کے ”دانے سے“ کیا

ترکِ الفت اور پھر الفت بھی اس بے مثل کیمیں بہک جاؤں گا واعظ! تیرے بہکانے سے کیا

آگ میں اپنی جلا کر خاک کر ڈالا اسےشمع! آخر دشمنی ایسی بھی پروانے سے کیا

چارہ سازو! کیوں دوا کرتے ہو، مر جانے بھی دوبزم ہو جائے گی سونی میرے اٹھ جانے سے کیا

میکشی لازم نہیں ہے بزمِ ساقی میں نصیرؔکام جب آنکھوں سے چل جائے تو پیمانے سے کیا

— پیر نصیرالدین