14 اشعار

ان کے انداز کرم ان پہ وہ آنا دل کا

Un ke andaaz-e-karam un pe wo aana dil ka

ان کے انداز کرم ان پہ وہ آنا دل کا

«ان کے انداز کرم ان پہ وہ آنا دل کا» پیر نصیرالدین کا کلام ہے، جسے نایاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «آج مے خانے میں نیت میری بھر جانے دے پیر نصیر الدین نصیر» میں 8 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 33 سیکنڈ ہے۔

ان کے انداز کرم ان پہ وہ آنا دل کاہائے وہ وقت وہ باتیں وہ زمانہ دل کا

نہ سنا اس نے توجہ سے فسانا دل کازندگی گزری مگر درد نہ جانا دل کا

کچھ نئی بات نہیں حسن پہ آنا دل کامشغلہ ہے یہ نہایت ہی پرانا دل کا

وہ محبت کی شروعات وہ بے تھاہ خوشیدیکھ کر ان کو وہ پھولے نہ سمانا دل کا

دل لگی دل کی لگی بن کے مٹا دیتی ہےروگ دشمن کو بھی یا رب نہ لگانا دل کا

ہوئے تو میرے مقدر کو بگاڑا اس نےاور پھر اس پہ غضب ہنس کے بنانا دل کا

میرے پہلو میں نہیں آپ کی مٹھی میں نہیںبے ٹھکانے ہے بہت دن سے ٹھکانا دل کا

وہ بھی اپنے نہ ہوئے دل بھی گیا ہاتھوں سےایسے آنے سے تو بہتر تھا نہ آنا دل کا

خوب ہیں آپ بہت خوب مگر یاد رہےزیب دیتا نہیں ایسوں کو ستانا دل کا

بے جھجک آ کے ملو ہنس کے ملاؤ آنکھیںآؤ ہم تم کو سکھاتے ہیں ملانا دل کا

نقش بر آب نہیں وہم نہیں خواب نہیںآپ کیوں کھیل سمجھتے ہیں مٹانا دل کا

حسرتیں خاک ہوئیں مٹ گئے ارماں سارےلٹ گیا کوچۂ جاناں میں خزانا دل کا

لے چلا ہے مرے پہلو سے بصد شوق کوئیاب تو ممکن نہیں لوٹ کے آنا دل کا

ان کی محفل میں نصیرؔ ان کے تبسم کی قسمدیکھتے رہ گئے ہم ہاتھ سے جانا دل کا

— پیر نصیرالدین

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں