8 اشعار

نظر میں بھی نہیں اب گھومتا پیمانہ برسوں سے

Nazar mein bhi nahin ab ghoomta paimana barson se

نظر میں بھی نہیں اب گھومتا پیمانہ برسوں سے

«نظر میں بھی نہیں اب گھومتا پیمانہ برسوں سے» پیر نصیرالدین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

نظر میں بھی نہیں اب گھومتا پیمانہ برسوں سےقسم کھانے کو بھی دیکھا نہیں مے خانہ برسوں سے

نہ پینے کو ملی اک گھونٹ بے باکانہ برسوں سےنہیں اب کار فرما جرأت رندانہ برسوں سے

سر صحرا جدھر دیکھو اداسی ہی اداسی ہےادھر آیا نہیں شاید کوئی دیوانہ برسوں سے

کبھی خلوت کبھی جلوت کبھی ہنسنا کبھی رونامرتب کر رہے ہیں ہم بھی اک افسانہ برسوں سے

یہ تکلیف قدم بوسی یہ انداز پذیرائیہمارا منتظر تھا غالباً ویرانہ برسوں سے

میسر آئی کیا ہم کو گدائی آپ کے در کیگزرتی ہے ہماری زندگی شاہانہ برسوں سے

وہ اپنی ذات کے صحرا میں شاید تیرا جویا ہےنظر آیا نہیں احباب کو دیوانہ برسوں سے

نصیرؔ اب اپنی آنکھیں اٹھ نہیں سکتیں کسی جانبمرے پیش نظر ہے اک تجلی خانہ برسوں سے

— پیر نصیرالدین