12 اشعار

مری زیست پر مسرت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی

Meri zeest par masarrat kabhi thi na hai na hogi

مری زیست پر مسرت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی

«مری زیست پر مسرت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی» پیر نصیرالدین کا کلام ہے، جسے نایاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «آج مے خانے میں نیت میری بھر جانے دے پیر نصیر الدین نصیر» میں 8 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 39 سیکنڈ ہے۔

مری زیست پر مسرت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگیکوئی بہتری کی صورت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی

مجھے حسن نے ستایا، مجھے عشق نے مٹایاکسی اور کی یہ حالت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی

وہ جو بے رخی کبھی تھی وہی بے رخی ہے اب تکمرے حال پر عنایت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی

وہ جو حکم دیں بجا ہے، مرا ہر سخن خطا ہےانہیں میری رو رعایت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی

جو ہے گردشوں نے گھیرا، تو نصیب ہے وہ میرامجھے آپ سے شکایت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی

ترے در سے بھی نباہے، در غیر کو بھی چاہےمرے سر کو یہ اجازت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی

ترا نام تک بھلا دوں، تری یاد تک مٹا دوںمجھے اس طرح کی جرأت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی

میں یہ جانتے ہوئے بھی، تری انجمن میں آیاکہ تجھے مری ضرورت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی

تو اگر نظر ملائے، مرا دم نکل ہی جائےتجھے دیکھنے کی ہمت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی

جو گلہ کیا ہے تم سے، تو سمجھ کے تم کو اپنامجھے غیر سے شکایت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی

ترا حسن ہے یگانہ، ترے ساتھ ہے زمانہمرے ساتھ میری قسمت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی

یہ کرم ہے دوستوں کا، وہ جو کہہ رہے ہیں سب سےکہ نصیرؔ پر عنایت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی

— پیر نصیرالدین

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں