8 اشعار

دل خون ہو تو کیوں کر نہ لہو آنکھ سے برسے

Dil khoon ho to kyon kar na lahu aankh se barse

دل خون ہو تو کیوں کر نہ لہو آنکھ سے برسے

«دل خون ہو تو کیوں کر نہ لہو آنکھ سے برسے» پیر نصیرالدین کا کلام ہے، جسے یادرفتگان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «آج مے خانے میں نیت میری بھر جانے دے پیر نصیر الدین نصیر» میں 8 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 7 سیکنڈ ہے۔

دل خون ہو تو کیوں کر نہ لہو آنکھ سے برسےآخر کو تعلق ہے اسے دیدہ تر سے

کچھ دیر تو اس قلب شکستہ میں بھی ٹھہرویوں تو نہ گزر جاؤ اس اجڑے ہوئے گھر سے

ہر موج سے طوفانِ حوادث کی حدی خواںمشکل ہے نکلنا مری کشتی کا بھنور سے

یہ حسن یہ شوخی یہ تبسم یہ جوانیاللہ بچائے تمہیں بد بیں کی نظر سے

خورشید تو کیا ، غیرت خورشید ہوا ہےوہ ذرہ جو ابھرا ہے تری راہگزر سے

نکلی نہ جو دیدار کی حسرت تو یہ ہو گاسر پھوڑ کے مر جائیں گے دیوار سے ، در سے

سو رنج ہیں ، سو شکوہ شکایات ہیں ، لیکنمجبور ہیں ، کچھ کہتے نہیں آپ کے ڈر سے

صیاد! خدا خیر کرے اہل چمن کیدیکھے ہیں فضاؤں میں کچھ اڑتے ہوئے پَر سے​

— پیر نصیرالدین

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں