7 اشعار

ہمارا اور کوئی غم گسار بھی تو نہیں

Hamara aur koi ghamgusaar bhi to nahin

ہمارا اور کوئی غم گسار بھی تو نہیں

«ہمارا اور کوئی غم گسار بھی تو نہیں» پیر نصیرالدین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 49 سیکنڈ ہے۔

ہمارا اور کوئی غم گسار بھی تو نہیںتری قسم کا مگر اعتبار بھی تو نہیں

جفا پسند نہیں ناگوار بھی تو نہیںستم تو یہ ہے کہ تو شرمسار بھی تو نہیں

تری نگاہ کو آخر کہاں تلاش کروںرکی نہ دل میں مگر آر پار بھی تو نہیں

کسی غریب پہ آنسو بہائے کون یہاںیہ بے کسی ہے کہ شمع مزار بھی تو نہیں

ہزار بار پکارا اسے محبت میںجواب اس نے دیا ایک بار بھی تو نہیں

تلاش پھر ہے مری آج کیوں زمانے کونشان قبر کہاں اب غبار بھی تو نہیں

کہاں پہ جا کے کریں کنج عافیت کی تلاشنصیرؔ جائے سکوں کوئے یار بھی تو نہیں

— پیر نصیرالدین