9 اشعار

یوں وہ محفل میں بصد شان بنے بیٹھے ہیں

Yun woh mehfil mein ba sad shaan bane baithe hain

یوں وہ محفل میں بصد شان بنے بیٹھے ہیں

«یوں وہ محفل میں بصد شان بنے بیٹھے ہیں» پیر نصیرالدین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 6 سیکنڈ ہے۔

یوں وہ محفل میں بصد شان بنے بیٹھے ہیںمیرا دل اور مری جان بنے بیٹھے ہیں

ان کی صورت نکھر آئی پسِ زینت کیا کیادیدۂ خلق کا ارمان بنے بیٹھے ہیں

جن کو آداب تک آتے نہیں دربانی کےآج اس در پہ وہ دربان بنے بیٹھے ہیں

مجھ کو دیکھا تو غضب ناک ہوئے ٹوٹ پڑےکیا خبر تھی کہ وہ طوفان بنے بیٹھے ہیں

جو ہیں سلطان وہ پھرتے ہیں گداؤں کی طرحجو گداگر ہیں وہ سلطان بنے بیٹھے ہیں

محفل ناز میں بلوا بھی لیا ہے مجھ کواور پھر مجھ سے وہ انجان بنے بیٹھے ہیں

اہل دل پر وہ غصہ ہے نہ وہ قہر و ستمخیر سے آج وہ انسان بنے بیٹھے ہیں

دیکھتے ہی نہیں قصداً وہ ہماری جانبجان کر ہم سے وہ انجان بنے بیٹھے ہیں

اے نصیرؔ ان کو سر بزم ذرا دیکھو تواک تماشہ کا وہ عنوان بنے بیٹھے ہیں

— پیر نصیرالدین