8 اشعار

ہم کسی کا گلا نہیں کرتے

Hum kisi ka gila nahin karte

ہم کسی کا گلا نہیں کرتے

«ہم کسی کا گلا نہیں کرتے» پیر نصیرالدین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 53 سیکنڈ ہے۔

ہم کسی کا گلا نہیں کرتےنہ ملیں جو ملا نہیں کرتے

چند کلیاں شگفتہ قسمت ہیںسارے غنچے کھلا نہیں کرتے

میں کو دست جنوں نے چاک‌ کیاوہ گریباں سلا نہیں کرتے

آپ محتاط ہوں زمانے میںہر کسی سے ملا نہیں کرتے

جو محبت میں سنگ میل بنیںوہ جگہ سے ہلا نہیں کرتے

ناز ہے ان کو بے وفائی پرختم یہ سلسلہ نہیں کرتے

رستے رہتے ہیں بھیگی راتوں میںزخم دل کے سلا نہیں کرتے

ان سے بس اک نصیرؔ شکوہ ہےہم سے وہ کیوں ملا نہیں کرتے

— پیر نصیرالدین