6 اشعار

ہر طرف سے جھانکتا ہے روئے جانانہ مجھے

Har taraf se jhaankta hai roo-e-jaanana mujhe

ہر طرف سے جھانکتا ہے روئے جانانہ مجھے

«ہر طرف سے جھانکتا ہے روئے جانانہ مجھے» پیر نصیرالدین کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «آج مے خانے میں نیت میری بھر جانے دے پیر نصیر الدین نصیر» میں 8 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 50 سیکنڈ ہے۔

ہر طرف سے جھانکتا ہے روئے جانانہ مجھےمحفل ہستی ہے گویا آئینہ خانہ مجھے

اک قیامت ڈھائے گا دنیا سے اٹھ جانا مرایاد کر کے روئیں گے یاران میخانہ مجھے

دل ملاتے بھی نہیں دامن چھڑاتے بھی نہیںتم نے آخر کیوں بنا رکھا ہے دیوانہ مجھے

یا کمال قرب ہو یا انتہائے بعد ہویا نبھانا ساتھ یا پھر بھول ہی جانا مجھے

تو ہی بتلا اس تعلق کو بھلا کیا نام دوںساری دنیا کہہ رہی ہے تیرا دیوانہ مجھے

جس کے سناٹے ہوں میری خامشی سے ہم کلامکاش مل جائے نصیرؔ اک ایسا ویرانہ مجھے

— پیر نصیرالدین

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں