6 اشعار

کاش حاصل مجھے یہ رنگ تماشا ہوتا

Kaash hasil mujhe ye rang tamasha hota

کاش حاصل مجھے یہ رنگ تماشا ہوتا

«کاش حاصل مجھے یہ رنگ تماشا ہوتا» پیر نصیرالدین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 44 سیکنڈ ہے۔

کاش حاصل مجھے یہ رنگ تماشا ہوتاروز و شب سامنے تیرا رخ زیبا ہوتا

رونقیں آتیں خوشی ہوتی نکلتے ارماںتم قدم رکھتے مرے گھر میں تو کیا کیا ہوتا

پھر مجھے عشق میں معذور سمجھتا ناصحمیری آنکھوں سے جو اس نے تجھے دیکھا ہوتا

میہماں ہے کوئی دم کا یہ تمہارا بیمارتم بھی آ جاتے جو بالیں پہ تو اچھا ہوتا

یوں نہ ٹھکراؤ اگر دے ہی دیا دل تم کودل تمہارا جو نہ ہوتا تو یہ کس کا ہوتا

ہر گھڑی اس کی معیت کا تصور ہے نصیرؔیہ بھی ہوتا نہ مرے ساتھ تو تنہا ہوتا

— پیر نصیرالدین