6 اشعار

جسے تیری زلفوں کے خم یاد آئے

Jise teri zulfon ke kham yaad aaye

جسے تیری زلفوں کے خم یاد آئے

«جسے تیری زلفوں کے خم یاد آئے» پیر نصیرالدین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 37 سیکنڈ ہے۔

جسے تیری زلفوں کے خم یاد آئےاسے پھر نہ دیر و حرم یاد آئے

وہیں ماہ و انجم کی تابانیاں تھیںجہاں تیرے نقش قدم یاد آئے

بڑھی اور شام الم کی اداسیجو گیسو ترے دمبدم یاد آئے

بہر حال ان سے رہا اک تعلقستم یاد آئے کرم یاد آئے

ہو جس کی نظر میں وجود ایک منزلاسے کیسے راہ عدم یاد آئے

نصیرؔ اپنی روداد جب ہم نے دیکھیگھنی زلف کے پیچ و خم یاد آئے

— پیر نصیرالدین