7 اشعار

جو کفن باندھ کے سر سے گزرے

Jo kafan baandh ke sar se guzre

جو کفن باندھ کے سر سے گزرے

«جو کفن باندھ کے سر سے گزرے» پیر نصیرالدین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 38 سیکنڈ ہے۔

جو کفن باندھ کے سر سے گزرےوہ تری راہ گزر سے گزرے

دل سے گزرے کہ جگر سے گزرےہم کو کیا کوئی جدھر سے گزرے

ان میں شامل تھا مرے دل کا لہواشک جو دیدۂ تر سے گزرے

راستے بند بلا کے پہرےکوئی گزرے تو کدھر سے گزرے

اور کوئی نہ جچا آنکھوں میںآپ ہی آپ نظر سے گزرے

دیدہ و دل پہ قیامت گزریبن سنور کر وہ جدھر سے گزرے

روک اشکوں کا یہ سیلاب نصیرؔاس سے پہلے کہ یہ سر سے گزرے

— پیر نصیرالدین