11 اشعار

جو وہ تو نہ رہا تو وہ بات گئی جو وہ بات گئی تو مزا نہ رہا

Jo woh to na raha to woh baat gayi jo woh baat gayi to maza na raha

جو وہ تو نہ رہا تو وہ بات گئی جو وہ بات گئی تو مزا نہ رہا

«جو وہ تو نہ رہا تو وہ بات گئی جو وہ بات گئی تو مزا نہ رہا» پیر نصیرالدین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 38 سیکنڈ ہے۔

جو وہ تو نہ رہا تو وہ بات گئی جو وہ بات گئی تو مزا نہ رہاوہ امنگ کہاں وہ ترنگ کہاں وہ مزاج وفا و جفا نہ رہا

شب و روز کہیں بھی الگ نہ ہوا شب و روز کہاں وہ ملا نہ رہارگ جاں سے ہماری قریب رہا رگ جاں سے ہماری جدا نہ رہا

کسی شکل میں بھی کسی رنگ میں بھی کسی روپ میں بھی کسی ڈھنگ میں بھیوہ ہماری نظر سے چھپا تو مگر وہ ہماری نظر سے چھپا نہ رہا

تھی خزاں‌کے لباس میں‌کس کی نظر کہ جھلستی گئی ہے تمام شجرکسی شاخ‌ پہ تازہ کلی نہ رہی ، کوئی پتہ چمن میں‌ہرا نہ رہا

تیرے ظلم و ستم ہوئے مجھ پہ جو کم تو یہ حال مرا ہے قدم بہ قدموہ تڑپ نہ رہی، وہ جلن نہ رہی، غم و درد میں ‌اب وہ مزا نہ رہا

بہے اشک وفور ملال میں جب، کھلے راز تمام، ہوا یہ غضبکوئی بات کسی سے چھپی نہ رہی، کوئی حال کسی سے چھپا نہ رہا

دم دید ہزار حواس گئے، رہے دور ہی دور کہ پاس رہےہمیں ‌دیکھنا تھا انہیں ‌دیکھ لیا، کوئی بیچ میں‌ پردہ رہا نہ رہا

مرے دم سے تھے نقش و نگار جنوں‌، مرے بعد کہاں وہ بہار جنوںکسی خار کی نوک پہ کیا یہ ہو تری، کوئی دشت میں‌ آبلہ پا نہ رہا

مرے پاس جو آ بھی گیا ہے کبھی، تو یہ ڈھنگ رہے تو یہ شکل رہیوہ ذرا نہ کھلا ، وہ ذرا نہ کھلا، وہ ذرا نہ تھما، وہ ذرا نہ رہا

کیے تیری نگاہ نے جس پہ کرم، رہا دونوں‌ جہان میں‌ اس کا بھرمجسے تیرے غضب نے تباہ کیا، کہیں‌اس کا بھرم بخدا نہ رہا

جو نصیر ہم ان کے قریب ہوئے، تو حیات کے رنگ عجیب ہوئےغم‌ ہجرمیں ‌اور ہی کچھ تھی خلش، وہ خلش نہ رہی وہ مزا نہ رہا

— پیر نصیرالدین