12 اشعار

سر مے خانہ کوئی پارسا اب تک نہیں آیا

Sar-e-mai-khana koi parsa ab tak nahin aaya

سر مے خانہ کوئی پارسا اب تک نہیں آیا

«سر مے خانہ کوئی پارسا اب تک نہیں آیا» پیر نصیرالدین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 32 سیکنڈ ہے۔

سر مے خانہ کوئی پارسا اب تک نہیں آیاہمیں پینے پلانے کا مزا اب تک نہیں آیا

کیا وعدہ مگر وہ بے وفا اب تک نہیں آیاخدا معلوم کب تک آئے گا اب تک نہیں آیا

فلک کی گردشیں حیراں ہیں اس کی بے مثالی پرکوئی ایسا ستم گر دوسرا اب تک نہیں آیا

شباب آیا حجاب آیا ادائیں آگئیں ان کونہیں آیا تو انداز وفا اب تک نہیں آیا

نگاہیں ان کی اٹھیں گھوم پھر کر غیر تک پہنچیںمری جانب کوئی تیر قضا اب تک نہیں آیا

تمہی اے ہم نشینو نامہ بر کی کچھ خبر لاؤذرا پھر دیکھ لو یہ کیا کہا اب تک نہیں آیا

ہزاروں کو ہے دعوی نا خدائی کا مگر ہم کونظر کوئی بھی ساحل آشنا اب تک نہیں آیا

مرے نزدیک تو عذر خطا انکار رحمت ہےخطا کاروں کو انداز خطا اب تک نہیں آیا

پلٹ کر آ نہیں سکتا عدم کی راہ سے کوئییہ دنیا چھوڑ کر جو بھی گیا اب تک نہیں آیا

مرے غم خانۂ ہستی کی شب تاریک ہے کتنیکوئی جگنو کوئی روشن دیا اب تک نہیں آیا

یہ اک تم ہو کہ اک مدت سے ہم کو بھولے بیٹھے ہویہ اک ہم ہیں کہ ہم کو بھولنا اب تک نہیں آیا

نصیرؔ اس نے دم رخصت نہ کیا کیا کھائی تھیں قسمیںمگر دیکھو ذرا وہ بے وفا اب تک نہیں آیا

— پیر نصیرالدین