7 اشعار

عشق نے جکڑا ہے مجھ کو اس کڑی زنجیر سے

Ishq ne jakda hai mujh ko is kadi zanjeer se

عشق نے جکڑا ہے مجھ کو اس کڑی زنجیر سے

«عشق نے جکڑا ہے مجھ کو اس کڑی زنجیر سے» پیر نصیرالدین کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «آج مے خانے میں نیت میری بھر جانے دے پیر نصیر الدین نصیر» میں 8 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 58 سیکنڈ ہے۔

عشق نے جکڑا ہے مجھ کو اس کڑی زنجیر سےجس کے حلقے کھل نہیں سکتے کسی تدبیر سے

اور ہی کچھ ہو شب فرقت کے کٹنے کی سبیلدل تصور سے بہلتا ہے نہ اب تصویر سے

خط اسے مت کہہ یہ لکھا ہے مری تقدیر کادل کو ہے اک ربط تیری شوخیٔ تحریر سے

زندگی بھر اک سہانا خواب ہم دیکھا کئےتیری صورت مل گئی اس خواب کی تعبیر سے

اس نگاہ ناز پر صدقے دل و جاں ہو گئےآپ نے دیکھا نشانے دو اڑے اک تیر سے

اب تو بس دو ہچکیوں کی بات باقی رہ گئیآپ نے پوچھا مجھے لیکن بڑی تاخیر سے

غم کی تنہائی کے سناٹے میں تنہا تھا نصیرؔتھا تو کھو جاتا مگر تم مل گئے تقدیر سے

— پیر نصیرالدین

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں