13 اشعار

تجھ سا نہ تھا کوئی نہ کوئی ہے حسیں کہیں

Tujh sa na tha koi na koi hai haseen kahin

تجھ سا نہ تھا کوئی نہ کوئی ہے حسیں کہیں

«تجھ سا نہ تھا کوئی نہ کوئی ہے حسیں کہیں» پیر نصیرالدین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 36 سیکنڈ ہے۔

تجھ سا نہ تھا کوئی نہ کوئی ہے حسیں کہیںتو بے مثال ہے ترا ثانی نہیں کہیں

اپنا جنوں میں مد مقابل نہیں کہیںدامن کہیں جیب کہیں آستیں کہیں

زاہد کے سامنے جو ہو وہ نازنیں کہیںدل ہو کہیں حضور کا دنیا و دیں کہیں

اک تیرے آستاں پہ جھکی ہے ہزار بارورنہ کہاں جھکی ہے ہماری جبیں کہیں

دل کا لگاؤ دل کی لگی دل لگی نہیںایسا نہ ہو کہ دل ہی لٹا دیں ہمیں کہیں

کیا کہئے کس طرف گئے جلوے بکھیر کےوہ سامنے تو تھے ابھی میرے یہیں کہیں

گزرے گی اب تو کوچۂ جاناں میں زندگیرہنا پڑے گا اب ہمیں جا کر وہیں کہیں

دل سے تو ہیں قریب جو آنکھوں سے دور ہیںموجود آس پاس ہیں وہ بالیقیں کہیں

نظروں کی اور بات ہے دل کی ہے اور باتباتیں جو میرے دل میں ہیں اب تک نہیں کہیں

اے تازہ واردان چمن ہوشیار باشبجلی چمک رہی ہے چمن کے قریں کہیں

میرا ضمیر اپنی جگہ پر ہے مطمئناپنا سمجھ کے ان سے جو باتیں کہیں کہیں

دل نے بہت کہا کہ تمہیں مہرباں کہوںاس ڈر سے چپ رہا کہ نہ کہہ دو نہیں کہیں

آتے ہی ہم تو کوچۂ جاناں میں لٹ گئےدل کھو گیا نصیرؔ ہمارا یہیں کہیں

— پیر نصیرالدین