8 اشعار

کبھی ان کا نام لینا کبھی ان کی بات کرنا

Kabhi un ka naam lena kabhi un ki baat karna

کبھی ان کا نام لینا کبھی ان کی بات کرنا

«کبھی ان کا نام لینا کبھی ان کی بات کرنا» پیر نصیرالدین کا کلام ہے، جسے گلشن شیرازی نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «آج مے خانے میں نیت میری بھر جانے دے پیر نصیر الدین نصیر» میں 8 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 10 سیکنڈ ہے۔

کبھی ان کا نام لینا کبھی ان کی بات کرنامرا ذوق ان کی چاہت مرا شوق ان پہ مرنا

وہ کسی کی جھیل آنکھیں وہ مری جنوں مزاجیکبھی ڈوبنا ابھر کر کبھی ڈوب کر ابھرنا

ترے منچلوں کا جگ میں یہ عجب چلن رہا ہےنہ کسی کی بات سننا، نہ کسی سے بات کرنا

شب غم نہ پوچھ کیسے ترے مبتلا پہ گزریکبھی آہ بھر کے گرنا کبھی گر کے آہ بھرنا

وہ تری گلی کے تیور، وہ نظر نظر پہ پہرےوہ مرا کسی بہانے تجھے دیکھتے گزرنا

کہاں میرے دل کی حسرت، کہاں میری نارسائیکہاں تیرے گیسوؤں کا، ترے دوش پر بکھرنا

چلے لاکھ چال دنیا ہو زمانہ لاکھ دشمنجو تری پناہ میں ہو اسے کیا کسی سے ڈرنا

وہ کریں گے نا خدائی تو لگے گی پار کشتیہے نصیرؔ ورنہ مشکل، ترا پار یوں اترنا

— پیر نصیرالدین

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں