14 اشعار

کسی کافر کو نہ دیں دار کو اپنا کرنا

Kisi kaafir ko na dein dar ko apna karna

کسی کافر کو نہ دیں دار کو اپنا کرنا

«کسی کافر کو نہ دیں دار کو اپنا کرنا» پیر نصیرالدین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 33 سیکنڈ ہے۔

کسی کافر کو نہ دیں دار کو اپنا کرناایک لمحے کے لئے یار کو اپنا کرنا

عشق میں قرب کا ارمان بھی کیا ارماں ہےسائے کو چھوڑنا دیوار کو اپنا کرنا

ہمیں بھولی نہیں اب تک وفا کی چالیںیاد ہے اس بت عیار کو اپنا کرنا

کرچیاں چننا سدا اپنے انا پیکر کیاپنے ٹوٹے ہوئے پندار کو اپنا کرنا

ناز بے جا نہ اٹھانا کسی اہل زر کےکسی مفلس کے دل زار کو اپنا کرنا

اس کی بانہوں کے سہارے کی تمنا جیسےدھوپ میں سایۂ دیوار کو اپنا کرنا

تو ہی وہ یوسف دوراں ہے کہ آتا ہے جسےاک جھلک میں بھرے بازار کو اپنا کرنا

اپنے ہو کر بھی یہ اپنے نہیں بنتے اپنےہو سکے تو دل اغیار کو اپنا کرنا

وہ تو اک بات تھی ہم جس پہ اڑے بیٹھے ہیںورنہ آتا ہے ہمیں یار کو اپنا کرنا

دل کے بدلے میں جو دل مانگے تو پھر بسم اللہجنس الفت کے خریدار کو اپنا کرنا

پاک بازوں کا بہا لے گیا زعم تقوییہ تیرا مجھ سے گنہ گار کا اپنا کرنا

لاکھ اندھوں کی خجالت سے کہیں بہتر ہےصرف ایک دیدۂ بے دار کو اپنا کرنا

غم فرقت میں تڑپنا ہے مقدر اپنااپنی قسمت میں کہاں یار کو اپنا کرنا

روزمرہ کا یہ ہے کھیل نصیرؔ ان کے لئےایک دو باتوں میں دو چار کو اپنا کرنا

— پیر نصیرالدین