7 اشعار

یہ نظر کی زد ہے ظالم مرا دم نکل نہ جائے

Ye nazar ki zad hai zaalim mera dam nikal na jaaye

یہ نظر کی زد ہے ظالم مرا دم نکل نہ جائے

«یہ نظر کی زد ہے ظالم مرا دم نکل نہ جائے» پیر نصیرالدین کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «آج مے خانے میں نیت میری بھر جانے دے پیر نصیر الدین نصیر» میں 8 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 56 سیکنڈ ہے۔

یہ نظر کی زد ہے ظالم مرا دم نکل نہ جائےمجھے صرف اس کا ڈر ہے کہ یہ تیر چل نہ جائے

وہ اٹھی ہے آتش غم کی نفس نفس ہے سوزاںمری روح تپ نہ اٹھے مرا جسم جل نہ جائے

مرے رازداں سے ہنس کر وہ خطاب کر رہے ہیںکہیں تھپکیوں میں آکر کوئی راز اگل نہ جائے

تری بزم میں جو ہم ہیں تو یہاں پہ غیر کیوں ہویہ خلش نکل نہ جائے یہ عذاب ٹل نہ جائے

وہ اٹھا رہے ہیں چلمن وہ دکھا رہے ہیں صورتکہیں ہوش اڑ نہ جائیں کہیں دل مچل نہ جائے

میں چراغ ناتواں ہوں کوئی دم کا میہماں ہوںمرے سامنے سے اٹھ کر کوئی ایک پل نہ جائے

وہ نصیرؔ سن رہے ہیں مرے درد کا فسانہمجھے ہر گھڑی ہے دھڑکا کہیں رخ بدل نہ جائے

— پیر نصیرالدین

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں