23 اشعار

کوئی دنیائے عطا میں نہیں ہمتا تیرا

Koi duniya-e-ata mein nahin hamta tera

کوئی دنیائے عطا میں نہیں ہمتا تیرا

«کوئی دنیائے عطا میں نہیں ہمتا تیرا» پیر نصیرالدین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 19 سیکنڈ ہے۔

کوئی دنیائے عطا میں نہیں ہمتا تیراہو جو حاتم کو میسر یہ نظارا تیرا

کہہ اٹھے دیکھ کے بخشش میں یہ رتبہ تیراواہ کیا جود و کرم ہے شہ بطحیٰ تیرا

نہیں سنتا ہی نہیں مانگنے والا تیراکچھ بشر ہونے کے ناتے تجھے خود سا جانیں

اور کچھ محض پیامی ہی خدا کا جانیںان کی اوقات ہی کیا ہے کہ یہ اتنا جانیں

فرش والے تری عظمت کا علو کیا جانیںخسروا عرش پہ اڑتا ہے پھریرا تیرا

جو تصور میں ترا پیکر زیبا دیکھیںروئے والشمس تکیں مطلع سیما دیکھیں

کیوں بھلا اب وہ کسی اور کا چہرا دیکھیںتیرے قدموں میں جو ہیں غیر کا منہ کیا دیکھیں

کون نظروں پہ چڑھے دیکھ کے تلوا تیرامجھ سے ناچیز پہ ہے تیری عنایت کتنی

تو نے ہر گام پہ کی میری حمایت کتنیکیا بتاؤں تری رحمت میں ہے وسعت کتنی

ایک میں کیا مرے عصیاں کی حقیقت کتنیمجھ سے سو لاکھ کو کافی ہے اشارا تیرا

کئی پشتوں سے غلامی کا یہ رشتہ ہے بحالیہیں طفلی‌‌‌‌ و جوانی کے بتائے مہ و سال

اب بڑھاپے میں خدا را ہمیں یوں در سے نہ ٹالتیرے ٹکڑوں پہ پلے غیر کی ٹھوکر پہ نہ ڈال

جھڑکیاں کھائیں کہاں چھوڑ کے صدقہ تیراغم دوراں سے جو گھبرائیے کس سے کہیے

اپنی الجھن کو بتلائیے کس سے کہیےچیر کر دل کسے دکھلائیے کس سے کہیے

کسی کا منہ تکیے کہاں جائیے کس سے کہیےتیرے ہی قدموں پہ مٹ جائے یہ پالا تیرا

نظر عشاق نبی ہے یہ مرا حرف غریبمنبر وعظ پہ لڑتے رہیں آپس میں خطیب

یہ عقیدہ رہے اللہ کرے مجھ کو نصیبمیں تو مالک ہی کہوں گا کہ ہو مالک کے حبیب

یعنی محبوب و محب میں نہیں میرا تیراخوگر قربت و دیدار پہ کیسی گزرے

کیا خبر اس کے دل زار پہ کیسی گزرےہجر میں اس ترے بیمار پہ کیسی گزرے

دور کیا جانیے بد کار پہ کیسی گزرےتیرے ہی در پہ مرے بیکس و تنہا تیرا

تجھ سے ہر چند وہ ہیں قدر و فضائل میں رفیعکر نصیرؔ آج مگر فکرِ رضا کی توسیع

زینت نطق ترے اس کا ہو یہ شعر وقیعتیری سرکار میں لاتا ہے رضا اس کو شفیع

جو مرا غوث ہے اور لاڈلا بیٹا تیرا

— پیر نصیرالدین