13 اشعار

بس یہی سوچ کے پہروں نہ رہا ہوش مجھے

Bas yahi soch ke pahron na raha hosh mujhe

بس یہی سوچ کے پہروں نہ رہا ہوش مجھے

«بس یہی سوچ کے پہروں نہ رہا ہوش مجھے» پیر نصیرالدین کا کلام ہے، جسے ملک افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «آج مے خانے میں نیت میری بھر جانے دے پیر نصیر الدین نصیر» میں 8 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 50 سیکنڈ ہے۔

بس یہی سوچ کے پہروں نہ رہا ہوش مجھےکر دیا ہو نہ کہیں تو نے فراموش مجھے

تیری آنکھوں کا یہ مے خانہ سلامت ساقیمست رکھتا ہے ترا بادۂ سرجوش مجھے

ہچکیاں موت کی آنے لگیں اب تو آ جااور کچھ دیر میں شاید نہ رہے ہوش مجھے

کب کا رسوا میرے اعمال مجھے کر دیتےمیری قسمت کہ ملا تجھ سا خطا پوش مجھے

کس کی آہٹ سے یہ سویا ہوا دل جاگ اٹھاکر دیا کس کی صدا نے ہمہ تن گوش مجھے

یاد کرتا رہا تسبیح کے دانوں پہ جسےکر دیا ہے اسی ظالم نے فراموش مجھے

ایک دو جام سے نیت مری بھر جاتی تھیتری آنکھوں نے بنایا ہے بلانوش مجھے

جیتے جی مجھ کو سمجھتے تھے جو اک بار گراںقبر تک لے کے گئے وہ بھی سر دوش مجھے

مجھ پہ کھلنے نہیں دیتا وہ حقیقت میریحجلۂ ذات میں رکھتا ہے وہ روپوش مجھے

صحبت میکدہ یاد آئے گی سب کو برسوںنام لے لے کے مرا روئیں گے مے نوش مجھے

بوئے گل مانگنے آئے مرے ہونٹوں سے مہکچومنے کو ترے مل جائیں جو پاپوش مجھے

زندگی کے غم و آلام کا مارا تھا میںماں کی آغوش لگی قبر کی آغوش مجھے

دے بھی سکتا ہوں نصیرؔ اینٹ کا پتھر سے جوابوہ تو رکھا ہے مرے ظرف نے خاموش مجھے

— پیر نصیرالدین

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں