10 اشعار

اٹھے نہ تھے ابھی ہم حال دل سنانے کو

Uthe na the abhi hum haal-e-dil sunane ko

اٹھے نہ تھے ابھی ہم حال دل سنانے کو

«اٹھے نہ تھے ابھی ہم حال دل سنانے کو» پیر نصیرالدین کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «آج مے خانے میں نیت میری بھر جانے دے پیر نصیر الدین نصیر» میں 8 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 20 سیکنڈ ہے۔

اٹھے نہ تھے ابھی ہم حال دل سنانے کوزمانہ بیٹھ گیا حاشیے چڑھانے کو

بھری بہار میں پہنچی خزاں مٹانے کوقدم اٹھائے جو کلیوں نے مسکرانے کو

جلایا آتش گل نے چمن میں ہر تنکابہار پھونک گئی میرے آشیانے کو

جمال بادہ و ساغر میں ہیں رموز بہتمری نگاہ سے دیکھو شراب خانے کو

قدم قدم پہ رلایا ہمیں مقدر نےہم ان کے شہر میں آئے تھے مسکرانے کو

نہ جانے اب وہ مجھے کیا جواب دیتے ہیںسنا تو دی ہے انہیں داستاں سنانے کو

کہو کہ ہم سے رہیں دور حضرت واعظبڑے کہیں کے یہ آئے سبق پڑھانے کو

اب ایک جشن قیامت ہی اور باقی ہےاداؤں سے تو وہ بہلا چکے زمانے کو

شب فراق نہ تم آ سکے نہ موت آئیغموں نے گھیر لیا تھا غریب خانے کو

نصیرؔ جن سے توقع تھی ساتھ دینے کیتلے ہیں مجھ پہ وہی انگلیاں اٹھانے کو

— پیر نصیرالدین

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں