11 اشعار

کوئی جائے طور پہ کس لیے کہاں اب وہ خوش نظری رہی

Koi jaaye Toor pe kis liye kahaan ab woh khush-nazari rahi

کوئی جائے طور پہ کس لیے کہاں اب وہ خوش نظری رہی

«کوئی جائے طور پہ کس لیے کہاں اب وہ خوش نظری رہی» پیر نصیرالدین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 44 سیکنڈ ہے۔

کوئی جائے طور پہ کس لیے کہاں اب وہ خوش نظری رہینہ وہ ذوق دیدہ وری رہا نہ وہ شان جلوہ گری رہی

جو خلش ہو دل کو سکوں ملے جو تپش ہو سوز دروں ملےوہ حیات اصل میں کچھ نہیں جو حیات غم سے بری رہی

وہ خزاں کی گرم روی بڑھی تو چمن کا روپ جھلس گیاکوئی غنچہ سر نہ اٹھا سکا کوئی شاخ گل نہ ہری رہی

مجھے بس ترا ہی خیال تھا ترا روپ میرا جمال تھانہ کبھی نگاہ تھی حور پر نہ کبھی نظر میں پری رہی

ترے آستاں سے جدا ہوا تو سکون دل نہ مجھے ملامری زندگی کے نصیب میں جو رہی تو در بدری رہی

ترا حسن آنکھ کا نور ہے ترا لطف وجہ سرور ہےجو ترے کرم کی نظر نہ ہو تو متاع دل نظری رہی

جو ترے خیال میں گم ہوا تو تمام وسوسے مٹ گئےنہ جنوں کی جامہ دری رہی نہ خرد کی درد سری رہی

مجھے بندگی کا مزا ملا مجھے آگہی کا صلہ ملاترے آستانہ ناز پر جو دھری جبیں تو دھری رہی

یہ مہہ‌ و نجوم کی روشنی ترے حسن کا پرتو بدل نہیںترا ہجر شب کا سہاگ تھا مرے غم کی مانگ بھری رہی

رہ عشق میں جو ہوا گزر دل و جاں کی کچھ نہ رہی خبرنہ کوئی رفیق نہ ہم سفر مرے ساتھ بے خبری رہی

ترے حاسدوں کو ملال ہے یہ نصیرؔ فن کا کمال ہےترا قول تھا جو سند رہا تری بات تھی جو کھری رہی

— پیر نصیرالدین