9 اشعار

لوگ نالاں ہیں جفا سے تیری

Log nalan hain jafa se teri

لوگ نالاں ہیں جفا سے تیری

«لوگ نالاں ہیں جفا سے تیری» پیر نصیرالدین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 50 سیکنڈ ہے۔

لوگ نالاں ہیں جفا سے تیریحشر برپا ہے ادا سے تیری

چھیڑ ہے زلف رسا سے تیریبات بگڑی ہے صبا سے تیری

کوئی جیتا ہو تجھے اس سے غرضکوئی مرتا ہو بلا سے تیری

ساقیٔ بزم پلا دیر نہ کرمنتیں کرتے ہیں پیاسے تیری

بات بنتی ہے کرم سے تیرےکام چلتا ہے عطا سے تیری

ہیں نے لٹتے ہوئے گھر دیکھے ہیںایک سادہ سی ادا سے تیری

حوصلہ ہے ابھی غم سہنے کاابھی زندہ ہیں دعا سے تیری

پھر سہی حشر کے دن کر لیں گےبات کرنی ہے خدا سے تیری

دھوم ہے شعلہ نوائی کی نصیرؔلوگ جلتے ہوں بلا سے تیری

— پیر نصیرالدین