6 اشعار

یہ مقدر کا لکھا ہے اب یہ کٹ سکتا نہیں

Ye muqaddar ka likha hai ab ye kat sakta nahin

یہ مقدر کا لکھا ہے اب یہ کٹ سکتا نہیں

«یہ مقدر کا لکھا ہے اب یہ کٹ سکتا نہیں» پیر نصیرالدین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 50 سیکنڈ ہے۔

یہ مقدر کا لکھا ہے اب یہ کٹ سکتا نہیںراہ سے ان کی ہمارا پاؤں ہٹ سکتا نہیں

دیکھ کر رنگِ چمن آنسو بہانے چاہئیںکیا ہمارا خون دل پھولوں میں بٹ سکتا نہیں

کیسی کیسی محفلیں تھیں کیسے کیسے لوگ تھےوہ سنہرا دور ماضی کیا پلٹ سکتا نہیں

دم قدم کے ساتھ رہتی ہے زمانے کی ہواان کے قدموں سے کوئی ذرہ لپٹ سکتا نہیں

دل کے ذرے منتشر ہو کر ملے ہیں خاک میںجو بکھر جائے وہ شیرازہ سمٹ سکتا نہیں

حاسدان تیرہ باطن سے کوئی کہہ دے نصیرؔعلم کا رتبہ بڑھا کرتا ہے گھٹ سکتا نہیں

— پیر نصیرالدین