9 اشعار

محفل سے ان کی سینکڑوں پی کر نکل گئے

Mehfil se un ki sainkdon pee kar nikal gaye

محفل سے ان کی سینکڑوں پی کر نکل گئے

«محفل سے ان کی سینکڑوں پی کر نکل گئے» پیر نصیرالدین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 10 سیکنڈ ہے۔

محفل سے ان کی سینکڑوں پی کر نکل گئےمجھ سے ملی جو آنکھ تو تیور بدل گئے

وہ ایسی قاتلانہ اداؤں میں ڈھل گئےزخمی کیا جو دل تو کلیجہ مسل گئے

کچھ اس طرح وہ ہم سے بھی تیور بدل گئےارمان و آرزو کے جنازے نکل گئے

قسمت پھری تو پھر گئے احباب اس طرحدیکھا مجھے تو دور سے رستہ بدل گئے

کیا شمع انجمن پہ جلانے کا اتہامجلنا ہی تھا نصیب میں پروانے جل گئے

دل ہم سے لے کے ان کی نگاہیں بدل گئیںدھوکا دیا فریب کیا چال چل گئے

تھکنے لگے جو پاؤں تو یوں راہ طے ہوئیاس انجمن میں اہل وفا سر کے بل گئے

اس آستان ناز کا جب تذکرہ ہوامیری جبین شوق میں سجدے مچل گئے

ان کا جمال دیکھ کے دیکھا جو اے نصیرؔقلب و نگاہ حسن کے سانچے میں ڈھل گئے

— پیر نصیرالدین