9 اشعار

حقیقت اور ہی کچھ ہے مگر ہم کیا سمجھتے ہیں

Haqeeqat aur hi kuch hai magar hum kya samajhte hain

حقیقت اور ہی کچھ ہے مگر ہم کیا سمجھتے ہیں

«حقیقت اور ہی کچھ ہے مگر ہم کیا سمجھتے ہیں» پیر نصیرالدین کا کلام ہے، جسے شہزاد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «آج مے خانے میں نیت میری بھر جانے دے پیر نصیر الدین نصیر» میں 8 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 19 سیکنڈ ہے۔

حقیقت اور ہی کچھ ہے مگر ہم کیا سمجھتے ہیںجو اپنا ہو نہیں سکتا اسے اپنا سمجھتے ہیں

یہ درس اولیں مجھ کو ملا میرے بزرگوں سےبہت چھوٹے ہیں وہ اوروں کو جو چھوٹا سمجھتے ہیں

نہ جانے کیوں ہماری ان کی اک پل بھی نہیں بنتیجو اپنا قبلۂ دل دولت دنیا سمجھتے ہیں

خدا و مصطفٰی سے ہٹ کے وہ ہیں سخت دھوکے میںجو اپنی ذات کو تنقید سے بالا سمجھتے ہیں

برے اچھوں کو بھی اچھا نہیں گردانتے لیکنجو اچھے ہیں برے لوگوں کو بھی اچھا سمجھتے ہیں

نہ پوچھو کچھ کہ کیا دے دیا ہے دینے والے نےبڑا ہو لاکھ کوئی ہم کسی کو کیا سمجھتے ہیں

بظاہر خوش تھے جو کل تک ہماری گل فشانی پروہ اپنے بھی ہمیں اب راہ کا کانٹا سمجھتے ہیں

قیامت سر پہ جو ٹوٹے مصیبت دل پہ جو آئےحقیقت میں اسے ہم مرضیٔ مولا سمجھتے ہیں

لگا دی تہمت بادہ کشی ان پر بھی واعظ نےنصیرؔ ان کی نظر کو جو مے و مینا سمجھتے ہیں

— پیر نصیرالدین

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں