13 اشعار

میری زندگی کا تجھ سے یہ نظام چل رہا ہے

Meri zindagi ka tujh se yeh nizaam chal raha hai

میری زندگی کا تجھ سے یہ نظام چل رہا ہے

«میری زندگی کا تجھ سے یہ نظام چل رہا ہے» پیر نصیرالدین کا کلام ہے، جسے آمنہ نعیم نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «آج مے خانے میں نیت میری بھر جانے دے پیر نصیر الدین نصیر» میں 8 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 32 سیکنڈ ہے۔

میری زندگی کا تجھ سے یہ نظام چل رہا ہےترا آستاں سلامت مرا کام چل رہا ہے

نہیں عرش و فرش پر ہی تری عظمتوں کے چرچےتہ خاک بھی لحد میں ترا نام چل رہا ہے

وہ تری عطا کے تیور، وہ ہجوم گرِد کوثرکہیں شورِ مَے کشاں ہے کہیں جام چل رہا ہے

کسی وقت یا محمد کی صدا کو میں نہ بھُولادمِ نزع بھی زباں پر یہ کلام چل رہا ہے

مرے ہاتھ آگئی ہے یہ کلید قُفلِ مقصدترا نام لے رہا ہوں مرا کام چل رہا ہے

کوئی یاد آ رہا ہے مرے دل کو آج شایدجو یہ سیل اشکِ حسرت سرِ شام چل رہا ہے

وہ برابری کا تُو نے دیا درس آدمی کوکہ غلام ناقََہ پر ہے تو امام چل رہا ہے

ترے لطف خسروی پر مرا کٹ رہا ہے جیونمیرے دن گزر رہے ہیں میرا کام چل رہا ہے

مجھے اس قدر جہاں میں نہ قبول عام ملتاترے نام کے سہارے مرا نام چل رہا ہے

تری مہر کیا لگی کہ کوئی ہنر نہ ہوتےمری شاعری کا سکہ سرِ عام چل رہا ہے

میں ترے نثار آقا ! یہ حقیر پر نوازشمجھے جانتی ہے دنیا مرا نام چل رہا ہے

ترا اُمتی بس اتنی ہی تمیز کاش کر لےوہ حلا ل کھا رہا ہے کہ حرام چل رہا ہے

کڑی دھوپ کے سفر میں نہیں کچھ نصیر کو غمترے سایہ کرم میں یہ غلام چل رہا ہے

— پیر نصیرالدین

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں