9 اشعار

منتظر خود ہے بصد شوق، خدا آج کی رات

Muntazir khud hai ba-sad shauq, Khuda aaj ki raat

منتظر خود ہے بصد شوق، خدا آج کی رات

«منتظر خود ہے بصد شوق، خدا آج کی رات» پیر نصیرالدین کا کلام ہے، جسے امل خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «آج مے خانے میں نیت میری بھر جانے دے پیر نصیر الدین نصیر» میں 8 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 8 سیکنڈ ہے۔

منتظر خود ہے بصد شوق، خدا آج کی راتکس کی آمد ہے سرِ عرشِ عُلٰی آج کی رات

فاصلے گھٹ گئے، یُوں قُرب بڑھا آج کی راتعبد و معبود میں پردہ نہ رہا آج کی رات

بخشوا لیں گے وہ امت کو خدا سے اپنےمانا جائے گا ضرور اُن کا کہا آج کی رات

قابَ قَوسَین کی صورت میں ہوا قرب و وصالکُھل گیا فلسفہء ثُمَّ دَنٰی آج کی رات

آج کی رات کے انداز نرالے دیکھےپڑھ کے چلتی درود اُن پے ہوا آج کی رات

رحمتِ سیدِ عالم ہیں دو عالم کو محیطکوئی عاصی نہیں محرومِ عطا آج کی رات

جلوۂ حُسنِ حقیقت کی ضیا باری میںاپنے شہکار کو دیکھے گا خدا آج کی رات

لگ کے قدموں سے ترے باغِ جناں تک پہنچیمعتبر ہو گئی رفتارِ صبا آج کی رات

خوش نصیبی ہے جو توفیقِ عبادت ہو نصؔیرمرحبا آج کا دن صّلِ علٰی آج کی رات

— پیر نصیرالدین

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں