10 اشعار

یہ مانا بے زباں ہوتے ہیں کانٹے

Yeh mana be-zaban hote hain kaante

یہ مانا بے زباں ہوتے ہیں کانٹے

«یہ مانا بے زباں ہوتے ہیں کانٹے» پیر نصیرالدین کا کلام ہے، جسے کریسنٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «آج مے خانے میں نیت میری بھر جانے دے پیر نصیر الدین نصیر» میں 8 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 1 سیکنڈ ہے۔

یہ مانا بے زباں ہوتے ہیں کانٹےمگر آزارِ جاں ہوتے ہیں کانٹے

گُلوں سے راہ و رسم اچّھی نہیں ہےرگِ گُل میں نہاں ہوتے ہیں کانٹے

محبّت کی عجب اَٹھکیلیاں ہیںدِلوں کے درمیاں ہوتے ہیں کانٹے

سنبھلنا، اے چمن کے رہنے والو!شریکِ آشیاں ہوتے ہیں کانٹے

بیاں کوئی کرے کیا اِن کی فطرتخود اپنی داستاں ہوتے ہیں کانٹے

وہ صحرا تھا، خلش کوئی نہیں تھییہ گُلشن ہے، یہاں ہوتے ہیں کانٹے

چلے تھے جو گُلوں سے عشق کرنےاُنہیں اب کیوں گراں ہوتے ہیں کانٹے

مِرا دامن ہے یہ، جھٹکو اِسے تمیہیں پل کر جواں ہوتے ہیں کانٹے

چبھن کُچھ اور بڑھ جاتی ہے اِن کیکہاں نذرِ خزاں ہوتے ہیں کانٹے

سکوں پائیں نصِیرؔ اہلِ چمن کیاجہاں جائیں، وہاں ہوتے ہیں کانٹے۔

— پیر نصیرالدین

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں