برباد تمنا پہ عتاب اور زیادہ
کلام: اسرار الحق مجاز
برباد تمنا پہ عتاب اور زیادہہاں میری محبت کا جواب اور زیادہ
روئیں نہ ابھی اہل نظر حال پہ میرےہونا ہے ابھی مجھ کو خراب اور زیادہ
کچھ تمہاری نگاہ کافر تھی(اسرار الحق مجاز)
مہمان شاعر: اسرار الحق مجاز
برباد تمنا پہ عتاب اور زیادہہاں میری محبت کا جواب اور زیادہ
روئیں نہ ابھی اہل نظر حال پہ میرےہونا ہے ابھی مجھ کو خراب اور زیادہ
محنت سے یہ مانا چور ہیں ہمآرام سے کوسوں دور ہیں ہم
پر لڑنے پر مجبور ہیں ہممزدور ہیں ہم مزدور ہیں ہم
مری زندگی تو فراق ہے وہ ازل سے دل میں مکیں سہیوہ نگاہ شوق سے دور ہیں رگ جاں سے لاکھ قریں سہی
ہمیں جان دینی ہے ایک دن وہ کسی طرح وہ کہیں سہیہمیں آپ کھینچے دار پر جو نہیں کوئی تو ہمیں سہی